حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي رَجَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں جعد ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورجاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا اور (اسی حالت میں) مر گیا تو یہ جاہلیت کی موت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4790]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة