مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ : " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: كَيْفَ؟، قَالَ: يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟، قَالَ: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلام سے روایت ہے، کہا: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، ہم اس خیر کی حالت میں ہیں، کیا اس خیر کے پیچھے شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کی: کیا اس شر کے پیچھے خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے پیچھے پھر شر ہو گا؟ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: وہ کس طرح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو زندگی گزارنے کے میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور میری سنت کو نہیں اپنائیں گے اور جلد ہی ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی وضع قطع انسانی ہو گی، دل شیطانوں کے دل ہوں گے۔“ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں (تو کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”امیر کا حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا، چاہے تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی سننا اور اطاعت کرنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4785]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة