عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَزْعَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ: وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: ”ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد، أهل الثناء والمجد، أحق ما قال العبد، وكلنا لك عبد، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد。“ (اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ ثنا اور عظمت کے حق دار! (یہی) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1071]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة