بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 4493 — باب: غلط باتوں اور نئی باتوں کے ابطال کا بیان جو دین میں نکالی جائیں۔
کتب صحیح مسلم جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب باب: غلط باتوں اور نئی باتوں کے ابطال کا بیان جو دین میں نکالی جائیں۔ حدیث 4493
حدیث نمبر: 4493 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، " قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ مَسَاكِنَ، فَأَوْصَى بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ مِنْهَا، قَالَ: يُجْمَعُ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ؟، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن جعفر زہری نے ہمیں سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے تین گھر ہیں اور اس نے ان میں سے ہر گھر کے ایک تہائی حصے کی وصیت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: اس کے تہائی کو ایک گھر کی صورت میں جمع کر دیا جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، ہمارا دین جس کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 4493]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (4492) باب پر واپس اگلی حدیث (4494) →