بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 4391 — باب: پیٹ کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد کی دیت کا بیان۔
کتب صحیح مسلم قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل باب: پیٹ کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد کی دیت کا بیان۔ حدیث 4391
حدیث نمبر: 4391 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بَنِ عَبَدِ الرَّحْمَنِ ، أبا هريرة
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بَنِ عَبَدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: " اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہذیل کی دو عورتیں باہم لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا اور اس بچے کو بھی جو اس کے پیٹ میں تھا، چنانچہ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت ایک غلام، مرد یا عورت ہے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس (قاتلہ) کے عاقلہ کے ذمے ہے اور اس کا وارث اس کے بیٹے اور ان کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو بنایا۔ اس پر حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کا تاوان کیسے دوں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، نہ آواز نکالی، ایسا (خون) تو رائیگاں ہوتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ اس کی سجع (قافیہ دار کلام) کی وجہ سے، جو اس نے جوڑی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ/حدیث: 4391]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (4390) باب پر واپس اگلی حدیث (4392) →