عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو کمی بیشی کے بغیر اس کے مال میں سے (غلام کی) منصفانہ قیمت لگائی جائے گی، پھر اگر وہ خوش حال ہوا تو وہ اس کے مال سے اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4329]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة