أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ : أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى؟، قَالَ: اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ: أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں نافع نے حدیث سنائی، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں (ٹھہرے ہوئے) تھے، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو۔“ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے۔ تو انہوں نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے سے) کہا: عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو۔ (یہ حنین کا موقع تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4294]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة