يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حُمَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: " مَا بَالُ هَذَا؟ قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا وہ اپنے دو بیٹیوں کے سہارے چلا کر لے جایا جا رہا تھا، آپ نے پوچھا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے۔“ اور (اس کے پاس پیدل چل کر جانے کی استطاعت ہی نہ تھی، اس لیے) آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النَّذْرِ/حدیث: 4247]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة