الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالنِّصْفُ، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ: أَبِالثُّلُثِ، فَقَالَ: نَعَمْ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک بن عمیر نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کی: کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کی: تو آدھے کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کی: ایک تہائی کی؟ تو آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور تہائی بھی زیادہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْوَصِيَّةِ/حدیث: 4214]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة