أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبَا الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ : أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ، فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ، فَإِنْ أَبَى فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ انہیں ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مشترک جائیداد، زمین، گھر یا باغ میں شفعہ ہے۔ (کسی ایک شریک کے لیے) اسے فروخت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ اپنے شریک کو پیشکش (نہ) کرے وہ (چاہے تو) اسے لے لے یا چھوڑ دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا شریک ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ اسے بتا نہ دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4129]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة