بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 4094 — باب: حلال کو حاصل کرنے اور شبہ والی اشیاء کو چھوڑنے کا بیان۔
کتب صحیح مسلم سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا باب: حلال کو حاصل کرنے اور شبہ والی اشیاء کو چھوڑنے کا بیان۔ حدیث 4094
حدیث نمبر: 4094 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبِي ، زَكَرِيَّاءُ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (شعبی نے) کہا: میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا،۔۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا۔۔ آپ فرما رہے تھے: بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا، جیسے چرواہا (جو) چراگاہ کے اردگرد (بکریاں) چراتا ہے، قریب ہے وہ اس (چراگاہ) میں چرنے لگیں، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ سنو! وہ دل ہے۔ (سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (4093) باب پر واپس اگلی حدیث (4095) →