سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَغَيْرُهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا؟، قَالَ: لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَ سَارَرْتَهُ؟، فَقَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، قَالَ: فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سوید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے حدیث سنائی، انہوں نے۔۔ اہل مصر کے آدمی۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سے روایت کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ اور مجھے ابوطاہر نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ انہی کے ہیں۔۔: ہمیں ابن وہب نے خبر دی: مجھے مالک بن انس اور دوسروں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے۔۔ مصر کے باشندوں میں سے۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سبئی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو انگور سے نچوڑی جاتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: نہیں، اس کے بعد اس نے ایک انسان سے سرگوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے اس سے یہ فروخت کرنے کو کہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جس (اللہ) نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کی بیع بھی حرام قرار دی ہے۔“ کہا: اس پر اس شخص نے مشکیزے کا منہ کھول دیا حتیٰ کہ جو اس میں تھا، بہہ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4044]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة