عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ الْمُغَفَّلِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ "، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ "، ثُمَّ " رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَكَلْبِ الْغَنَمِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”ان لوگوں کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟“ بعد میں آپ نے شکاری کتے اور بکریوں (کی حفاظت) والے کتے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 4021]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة