يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: تَحْمَرُّ، وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس کے رنگ بدلنے (زھو) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3977]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة