ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ، أَوْ ثَمَرٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ: مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَقَالَ: خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ وہاں کی کھیتی اور پھلوں کی پیداوار کے آدھے حصے پر معاملہ (کھیتی باڑی کے کام کاج کا معاہدہ) کیا۔۔۔ آگے علی بن مسہر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو انتخاب کیا۔ اور کہا: انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین خاص کر دی جائے۔ اور انہوں نے پانی کا (بھی) ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 3964]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة