ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو، أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا قَالَ: " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ (نقدی کے عوض) بٹائی پر زمین دیتے تھے۔ عمرو نے کہا: میں نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں (تو بہتر ہے) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا، آپ نے تو صرف فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (زمین) عاریتاً دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے۔“ (بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین، وسیع منفعت حاصل ہو گی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3958]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة