مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، اللَّيْثُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ". قَالَ يَحْيَى: الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عریہ کو (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی۔ یحییٰ نے کہا: عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے۔ (یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے۔ مفہوم ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3883]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة