يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو بیع کرنے والوں کے درمیان (اس وقت تک) بیع (لازم) نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، الا یہ کہ خیار (اختیار) والی بیع ہو (جس میں خیار کی مدت طے کر لی جائے یا اختیار استعمال کر کے بیع کو پکا کر لیا جائے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3857]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة