يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، لِمَالِكٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام مالک کو (حدیث سناتے ہوئے) کہا: آپ کو نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی (مشترکہ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا، اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے، تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی۔ اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے دیے جائیں گے اور غلام (مکمل طور پر) اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ (اگر اس کے پاس بقیہ حصے کی قیمت ادا کرنے کی سکت نہ ہو تو) اس میں سے جتنا حصہ آزاد ہو گیا وہ اس کی طرف سے آزاد رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3770]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة