قَالَ حُمَيْدٌ: قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فقَالَت زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا، حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً، فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید نے کہا: میں نے زینب سے پوچھا: ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکنا کیا ہے؟ زینب نے ہواب دیا: (جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک (دڑبہ نما) انتہائی تنگ جھونپڑی میں چلی جاتی، اپنے بدترین کپڑے پہن لیتی اور کوئی خوشبو وغیرہ استعمال نہ کرتی حتیٰ کہ (اسی حالت میں) سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی جانور گدھا، بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا، تو وہ اسے اپنی شرمگاہ سے ملتی، کم ہی ہوتا کہ وہ کسی کو ملتی تو وہ زندہ رہتا (سخت تعفن اور جراثیم وغیرہ کی بنا پر بیمار ہو کر مر جاتا) پھر وہ باہر نکلتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ (اپنے آگے یا پیچھے) پھینکتی، پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ جو وہ چاہتی استعمال کرتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3728]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة