إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ " أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً، فقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: آپ اپنے نوادر (جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: یقیناً ایسے ہی تھا، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے (غلط طریقے سے ایک ساتھ تین) طلاقیں دینا شروع کر دیں۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3675]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة