زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَقُولُ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَن، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ وَبَانَتْ مِنْكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس کے بارے میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) اس عورت سے رجوع کرے، پھر اسے مہلت دے حتیٰ کہ اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے چھونے (مجامعت کرنے) سے پہلے طلاق دے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔ (نافع نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دیتا ہے تو وہ کہتے: اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں (تو رجوع کر سکتے ہو کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ اس سے رجوع کریں، پھر اسے مہلت دیں حتیٰ کہ اسے دوسرا حیض آئے، (فرمایا:) پھر اسے مہلت دیں حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس سے مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دیں۔ اور اگر تم نے تین طلاقیں دی ہیں تو تم نے اپنے رب کے حکم میں جو اس نے تمہاری بیوی کی طلاق کے حوالے سے تمہیں دیا ہے، اس کی نافرمانی کی ہے اور (اب) وہ تم سے (مستقل طور پر) جدا ہو گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3656]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة