يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی، طلاق دے دی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے رہنے دے حتیٰ کہ وہ پاک ہو جائے (طہر شروع ہو جائے)، پھر اسے حیض آ جائے، پھر وہ پاک ہو جائے۔ پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اس سے مجامعت کرنے سے پہلے طلاق دے دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3652]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة