بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3567 — باب: غیلہ کے جواز کے بیان میں اور عزل کی کراہت میں۔
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: غیلہ کے جواز کے بیان میں اور عزل کی کراہت میں۔ حدیث 3567
حدیث نمبر: 3567 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ ، حَيْوَةُ ، عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَبَا النَّضْرِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ ، حدثنا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ "، فقَالَ الرَّجُلُ: أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا، ضَرَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ "، وقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ: إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ، وَلَا الرُّومَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے۔۔ الفاظ ابن نمیر کے ہیں۔۔ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن یزید مقبری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حیوہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عیاش بن عباس نے حدیث سنائی، انہیں ابونضر نے عامر بن سعد سے حدیث بیان کی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پر (جنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے) شفقت کرتا ہوں (کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم (کے بچوں) کو نقصان دیتا۔ زہیر نے اپنی روایت میں کہا: اگر یہ (عزل) اس وجہ سے ہے تو (اس کی ضرورت) نہیں، اس (عمل) نے فارس اور روم (کے بچوں) کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3567]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3566) باب پر واپس اگلی حدیث (3568) →