بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3565 — باب: غیلہ کے جواز کے بیان میں اور عزل کی کراہت میں۔
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: غیلہ کے جواز کے بیان میں اور عزل کی کراہت میں۔ حدیث 3565
حدیث نمبر: 3565 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عمر ، الْمُقْرِئُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عمر ، قَالَا: حدثنا الْمُقْرِئُ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ، قَالَت: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ، وَفَارِسَ، فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا "، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ "، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ الْمُقْرِئِ، وَهِيَ: وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ سورة التكوير آية 8،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن سعید اور محمد بن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں مقری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن ابی ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابواسود نے عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے) سے منع کر دوں، پھر میں نے روم اور فارس (کے لوگوں کے بارے) میں دیکھا (سوچا، غور کیا) تو وہ اپنے بچوں (کی دودھ پلانے والی ماؤں) سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ ان کے بچوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا۔ پھر صحابہ نے آپ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی (واد) زندہ درگور کرنا ہے۔ عبیداللہ نے مقری سے روایت کردہ اپنی حدیث میں اضافہ کیا: اور یہی ہے: زندہ درگور کی گئی سے (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3565]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3564) باب پر واپس اگلی حدیث (3566) →