يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانُ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ: فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَحْضُرُ ذَلِكَ، وَهُوَ أَمِيرُ الْحَجِّ، فقَالَ أَبَانُ ، سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكَح، ولَا يَخْطُبُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے نبیہ بن وہب سے روایت کی کہ عمر بن عبیداللہ (بن معمر جہنی) نے ارادہ کیا کہ اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر (بن عثمان جہنی) کی بیٹی سے کر دیں، تو انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ بھی آئیں، وہ امیر الحج بھی تھے۔ ابان نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”محرم (احرام باندھنے والا) نہ (خود) نکاح کرے اور نہ اس کا نکاح کرایا جائے اور نہ وہ نکاح کا پیغام بھیجے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3446]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة