أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر (اپنے) نکاح کا پیغام نہ دے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو (اپنے لیے) انڈیل لے۔ اسے (پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر) نکاح کر لینا چاہیے، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3442]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة