يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی۔ اس کے بعد اس بدو کو مدینہ میں بخار نے آ لیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ انکار کر دیا، پھر وہ (تیسری بار) آیا، اور کہا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پھر) انکار فرمایا۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی طرح ہے، وہ اپنے میل (برے لوگوں) کو باہر نکال دیتی ہے اور یہاں کا پاکیزہ (خالص ایمان والا) نکھر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3355]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة