عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَمَّا الْقَعَنْبِيُّ، فقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَمَّا قُتَيْبَةُ، فقَالَ حدثنا مَالِكٌ، وقَالَ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قُلْتُ لِمَالِكٍ: أَحَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فقَالَ: اقْتُلُوهُ "، فقَالَ مَالِكٌ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، قعنبی نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، قتیبہ نے کہا: ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا: (الفاظ انہی کے ہیں) میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا بن شہاب نے آپ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے (سر مبارک) پر خود تھا، جب آپ نے اسے اتارا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3308]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة