زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: " آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں (سفر سے) واپس آئے اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے (سوار) تھیں۔ جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3280]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة