يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَاصِمٍ
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ، قَالَ: يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ (محمد بن خازم) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، مگر عبدالواحد کی حدیث میں ”مال اور اہل میں“ کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے، کہا: ”جب آپ واپس آتے تو اہل (کی سلامتی کی دعا) سے ابتدا کرتے“ اور (یہ) دونوں کی روایت میں ہے: ”اے اللہ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3277]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة