مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الْقَاسِمِ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: " أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عَنْدَنَا، فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انہوں نے ام المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ (اپنی ازواج کے پاس) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک (عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3200]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة