بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3163 — باب: کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا جواز، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے کا جواز، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا جواز، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے کا جواز، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز۔ حدیث 3163
حدیث نمبر: 3163 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَنْدَ الْجَمْرَةِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: " افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قربانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: (اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی آیا۔ وہ کہنے لگا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: (اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے؟ فرمایا: (اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔ کہا: میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز (کی تقدیم و تاخیر) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فرمایا: کر لو کوئی حرج نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3163]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3162) باب پر واپس اگلی حدیث (3164) →