أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَح، قَالَ: " فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ (کسی اور نے) کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے تو آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3161]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة