أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ (عبدالرحمان نے) کہا: ان سے کہا گیا: کچھ لوگ اسے (جمرہ کو) اس کی بالائی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة