الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے ارد گرد طواف فرمایا، آپ (اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مار کر ہٹایا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3076]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة