عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْيٍ، فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ، ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا: مجھے میرے والد (حفص بن غیاث) نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کیا، (کہا:) مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حج کے متعلق سوال کیا، آگے حاتم بن اسماعیل کی طرح حدیث بیان کی، البتہ (اس) حدیث میں یہ اضافہ کیا: (اسلام سے قبل) عرب کو ابوسیارہ نامی شخص اپنے بے پالان گدھے پر لے کر چلتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (منیٰ سے آتے ہوئے) مزدلفہ میں مشعر حرام کو عبور کیا، قریش کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی پر رک جائیں گے (مزید آگے نہیں بڑھیں گے) اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیام گاہ یہیں ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے گزر گئے اور اس کی طرف رخ نہ کیا حتیٰ کہ عرفات تشریف لے آئے اور وہاں پڑاؤ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2951]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة