بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2947 — باب: حج اور عمرہ میں تمتع کے بارے میں۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: حج اور عمرہ میں تمتع کے بارے میں۔ حدیث 2947
حدیث نمبر: 2947 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ ، لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا. (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: " عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ ابونضرہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما حج تمتع کا حکم دیا کرتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے تھے۔ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے کیا، انہوں نے فرمایا: میرے ہی ذریعے سے (حج کی) یہ حدیث پھیلی ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (جا کر) حج تمتع کیا تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ بن کر) کھڑے ہوئے (بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا) تو انہوں نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کر دیتا تھا اور بلاشبہ قرآن نے جہاں جہاں (جس جس معاملے میں) اترنا تھا، اتر چکا، لہذا تم اللہ کے لیے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو، جس طرح (الگ الگ نام لے کر) اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اور ان عورتوں سے حتمی طور پر نکاح کیا کرو (جز وقتی نہیں)، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لیے نکاح کیا ہو گا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2947]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2946) باب پر واپس اگلی حدیث (2948) →