بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2918 — باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟ حدیث 2918
حدیث نمبر: 2918 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " أَنَفِسْتِ " يَعْنِي الْحَيْضَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي "، قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قاسم نے اپنے والد (محمد بن ابی بکر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھے روتا ہوا پایا۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے ہیں؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ (کر مقدر کر) دی ہے تم (سارے) کام ویسے ہی سر انجام دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کرلو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا (اس حج میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2918]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2917) باب پر واپس اگلی حدیث (2919) →