أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: " أَرَدْتِ الْحَجَّ؟ "، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا (بن عبدالمطلب) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا: ”تم حج کا ارادہ رکھتی ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حالت میں پاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور شرط کرلو اور یوں کہو: اللہم مَحِلِّي حيث حبستني“ ”اے اللہ! میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔“ وہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة