أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو أَيُّوبَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أنهما اختلفا بالأبواء، فقال عبد الله بن عباس: يغسل المحرم رأسه، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ:" اصْبُبْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن حنین) سے انہوں نے عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ابواء کے مقام پر ان دونوں کے درمیان اختلاف ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے (عبداللہ بن حنین کو) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے (اس کے بارے میں) مسئلہ پوچھوں (جب میں ان کے پاس پہنچا تو) انہیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان (جو کنویں سے فاصلے پر لگائی جاتی تھیں اور ان پر لگی ہوئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جاتا تھا) غسل کرتے ہوئے پایا۔ (عبداللہ بن حنین نے) کہا: میں نے انہیں سلام کہا: وہ بولے: یہ کون (آیا) ہے؟ میں نے عرض کی: میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھویا کرتے تھے؟ (میری بات سن کر) حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا: پانی ڈالو۔ اس نے آپ کے سر پر پانی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے۔ پھر کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2889]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة