يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، نَافِعٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونضر نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نافع سے انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ (عمرہ حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب وہ مکہ کے راستے کے ایک حصے میں تھے، وہ اپنے چند احرام والے ساتھیوں کی معیت میں پیچھے رہ گئے وہ خود احرام کے بغیر تھے۔ تو (اچانک) انہوں نے زیبرا دیکھا وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر سیدھے ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کوڑا پکڑانے کو کہا انہوں نے انکار کر دیا پھر ان سے اپنا نیزہ مانگا (کہ ان کو ہاتھ میں تھما دیں) انہوں نے (اس سے بھی) انکار کر دیا۔ انہوں نے خود ہی نیزہ اٹھایا پھر زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے (کھانے سے) انکار کر دیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ سے اس (شکار) کے بارے میں پوچھا: آپ نے فرمایا: ”یہ کھانا ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2852]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة