حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ بِإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: بلاشبہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکارتے سنا کہ آپ کے بال جڑے (گوندیا خطمی بوٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے) ہوئے تھے، آپ کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ۔ ان کلمات پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذو الحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذو الحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات سے تلبیہ پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا تلبیہ پکارتے تھے اور (ساتھ یہ) کہتے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری طرف سے سعادتوں کا طلبگار ہوں، ہر قسم کی بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، ہر دم تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2814]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة