بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2811 — باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔ حدیث 2811
حدیث نمبر: 2811 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا: میں نے مالک کے سامنے (اس حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے، (کسی بھی چیز میں) تیرا کوئی شریک نہیں)۔ اور (نافع نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس (مذکورہ تلبیہ) میں یہ اضافہ فرمایا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت (حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، (ہر دم) تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل (تیری ہی رضا کے لیے ہیں))۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2811]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2810) باب پر واپس اگلی حدیث (2812) →