شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ، أَوَ قَالَ: أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟، قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى، يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، لَهُ غَطِيطٌ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، قَالَ: فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ، أَوَ قَالَ: أَثَرَ الْخَلُوقِ، وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء بن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جعرانہ (کے مقام) پر تھے، اس (کے بدن) پر جبہ تھا، اس پر زعفران ملی خوشبو (لگی ہوئی) تھی۔ یا کہا: زردی کا نشان تھا۔ اس نے کہا: آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (اتنے میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کپڑا تان دیا گیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (اس عالم میں) دیکھوں جب آپ پر وحی اتر رہی ہو۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:) (عمر رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: کیا تمہیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی اتر رہی ہو تو تم انہیں دیکھو؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آ رہی تھی۔ صفوان نے کہا: میرا گمان ہے انہوں نے کہا:۔۔۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ کیفیت دور ہوئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ (پھر اس نے فرمایا:) ”تم اپنے (کپڑوں) سے زردی (زعفران) کا نشان۔۔۔ یا فرمایا: خوشبو کا اثر۔۔۔ دھو ڈالو، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2798]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة