يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ، إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا، فِي شَعْبَانَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان (بن عوف) سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی (اور) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2721]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة