عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ "، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " صُومِي عَنْهَا "، قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟، قَالَ: " حُجِّي عَنْهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2697]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة