أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوکریب، ابواسامہ، ولید، ابن کثیر، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے۔“ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان روزوں سے موافقت ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2645]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة