مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنَ عَوْنٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٌ ، عائشة
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَمَسْرُوقٌ إلى عائشة رضي الله عنها، فقلنا لها: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لِإِرْبِهِ "، شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ، ابوعاصم، ابن عون، ابراہیم، اسود، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہو جایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے۔“ یا فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابومیں رکھ سکے۔“ ابوعاصم راوی کو شک ہے۔ (مفہوم ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2579]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة