عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أبا هريرة
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: " أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ "، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ، فَأَرَادَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ: اجْلِسْ أَلَا تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى، فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہا: کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فرمایا: ”میں تم کو انصار کا بہترین گھرانہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”بنو عبدالاشہل۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”بنو نجار۔۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”پھر بنو حارث بن خزرج۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ فرمایا: ”پھر بنو ساعدہ۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون ہیں؟ فرمایا: ”پھر انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے گھرانے کا نام لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا: کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کرنی چاہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا: بیٹھ جاؤ، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے گھرانے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا، ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6427]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة